کرنل کی بیوی



گذشتہ چند دنوں سے ہزارہ ایکسپریس وے پر پولیس ناکہ توڑنے والی عورت کا بہت بڑا چرچا رہا ہے جو اپنے آپ کو 
کرنل کی بیوں بتاتی ہے، حالانکہ میرے لئے یہ کوئی بات ہی نہیں کہ وہ کون ہے میرے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ میرے ملک کا قانون توڑنے والی طاقت کی نشہ میں سر تا پا دُھت ایک مغرور اور قابل نفرت عورت ہے۔ مبینہ طور پر اسی کے کرنل خاوند کا بھی بالکل ایسا ہی ایک ویڈیو مشھور ہے حالانکہ مجھے اُس ویڈیو کی صحت کے بارے میں بھی مکمل معلومات نہیں ہیں اور میں اپنے معاشرے میں موجود ان رویوں کا خود شاہد ہوتے ہوے کھبی اسطرح کے فضولیات پر وقت بھی ضائع نہیں کرتا۔ قطعہ نظر اس کے یہ ویڈیو ہاتھوں ہاتھ لی گئی ہے اور آجکل تقریباً ہر سوشل میڈیا میں ٹرینڈ پر ہےجو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ واقعی سوچ تبدیل ہونا شروع ہوگئے ہیں، لوگ سوال اُٹھانے لگے ہیں اور ملک میں موجود امتیازی رویوں اور روایات سے تنگ آگئے ہیں۔ لوگ اب عدل و انصاف اور یکساں قوانین اور برابری کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ مگر بات وہاں پر آکر اٹک جاتی ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ہمارے زمینی آقا ہمیں کیونکر اپنے برابر حقوق دینے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔ ان لوگوں سے اپنے حقوق واگزار کرنے کیلئے بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟ ایسے معاشرے تشکیل دینے کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑینگے۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈھنے کیلئے ہمیں دُنیا کی معلوم تاریخ کو کنگالنا پڑےگا کہ آیا دنیا کے تاریخ میں ایسے مبنی بر انصاف معاشرے گزرے بھی ہیں یا نہیں؟ تو جواب بہت واضح اور آسان ہے کہ ماضی قریب میں ایسے مثالی معاشروں کا وجود محض طوطا کہانیاں ہی ہیں۔ تاریخ کو جتنا ان طوطا کہانیوں میں مسخ کیا گیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں۔ اگر صحیح معنوں میں کہیں ایسے منصفانہ معاشروں کا قیام ممکن ہوا ہے تو وہ وہی جدید جمہوری معاشرے ہیں جہاں پر لوگوں کواقتدار میں شراکت دی گئی ہے اور جہاں پر لوگوں کو بلا تفریق رنگ ونسل، مذہب و عقیدہ اور حیثیت کے بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں اور اُن معاشروںمیں آج بھی حتی الوسع انصاف کی بلا تفریق فراہمی کیلئے اصلاحات کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔
اب آتے ہیں پاکستان میں موجودہ حالات کے اسباب کیجانب تو ان حالات کے پسِ پُشت بے انتہا وجوہات ہیں، سب پر الگ الگ بات کرنا ہی ممکن ہے کسی ایک کالم میں ان اسباب کا احاطہ ممکن نہیں مگر ہمارے زبوں حالی کا سب سے بڑا وجہ انگریز کے چھوڑیں ہوئے وہ قوانین اور ضابطے ہیں جو کہ تقریباً ایک صدی گُزرنے کے باوجود بھی جوں کے توں موجود ہیں اور اُن کو کسی نے بھی نکھارنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ حالانکہ دوسری طرف انہیں قوانین کے خالق برطانیہ کے قوانین دنیا میں مثال کیطور پر پیش کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ انگریز نے برصغیر میں قوانین و قواعد ایک قوم کو غلام رکھنے کیلئے بنائے تھیں جبکہ برطانیہ میں قوانین اپنے قوم کو بنیادی انسانی حقوق دینے کیلئے۔ آزادی کے بعد ہندوستان نے بڑی حد تک اُن قوانین میں اصلاحات کیے جبکہ ہم آج بھی وہی لکیر کے فقیربنے ہوئے ہیں اور اسکی ذمہ داری بھی انگریز سرکار کے نوازے ہوئے جاگیرداروں، وڈیروں، نوابوں، ریئسوں اور خوانین پر ہے یا نمک حلالی کا حق ادا کرنے والے سر اور خان بھادر کے خطاب پانے والے انگریز وائسرایوں اور تاجِ برطانیہ کے وارث اشرافیہ پر۔ تقسیم ہند کے دوران تاریخ کو توڑ مروڑ کر جو بت تراشے گئے وہی بُت اب پرستش کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارے ادارے اور اشرافیہ جو کہ ملک کی معیشت پر بوجھ اور ملکی یکجہتی کے دشمن ہیں اُسی وائسرائانہ ذہنیت کے امین اور تسلسل ہیں۔ اگر ہمیں ان غلام گردشوں سے نکلنا ہے، اگر ہم نے بیڑیوں کو توڑ کر آزاد ہونا ہے ، اگر ہم نے واقعی بنیادی انسانی حقوق حاصل کرنے ہیں تو اس کا واحد علاج ہمیں علم و تحقیق کے راستوں پر چلنا ہوگا۔ سوال اُٹھانے ہونگے، مذہب اور حبِ وطن کے پابندیوں کی شکل میں جو فتور ہمارے ذہنوں میں بوئے گئے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ اس بوائی کو ختم کریں ، نظام تعلیم اور ںظام حکومت کو لارڈوں اور وائسرائیوں سے واگزار کرنا ہوگا۔ مذہب اور وطنیت پر قربان ہونے کی بجائے ان لارڈوں اور وائسرائیوں سے پوچھ گچھ کرنا ہوگی اب اس قربان گاہ پر صرف غریب کا بیٹا قربان نہیں ہوگا، اب علم حاصل کرنا ہوگا اور علم کی طاقت سے ان وقت کے فرعوںوں کے تخت اُچھالنے ہونگے، کرنل، جرنل، تھانیدار، جج، اے سی ڈی سی، سیاستدانوں اور مذہب کے ٹھیکیداروں سے سوال پوچھنے ہونگے ورنہ یہ سبھی ہمیں اپنے باریوں پر اپنے جوتیوں کی نوک پر رکھیں گے۔ اور ہماری بدنصیبی اور بد حالی کا یہ چکر تا قیامت جاری رہیگا۔

یہ طفیلئے جو کہ ہمارے خون سے تازہ و توانا ہیں اُن کو لگام دینے کیلئے ہم پر سب سے بڑا جہاد تعلیم حاصل کرنے کا فرض ہو چکا ہے، ہم کو سب کچھ پس پُشت ڈال کر تعلیم حا صل کرنے کیلئے یکسو ہو جانا ہوگا آییے اپنا اور اپنے بچوں کا حق واگزار کرنے کا وعدہ کرتے ہیں آیئے علم حا صل کرنے کا وعدہ کرتے ہیں اور آج کرنل کے سیلہ کے بعد کرنل کی بیوی کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کا ایک موقع دیا ہے جس کا نتیجہ اب ہم پر ہیں کہ اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں یا ماضی کے قصوں کیطرح اسے بھی طاقِ نسیاں میں ایک مقدس کتاب کی مانند سجاکے رکھ دیں۔   

Comments

  1. واہ۔ حسن بھائی اپ نے اس غفلت میں ڈوبے پاکستانیوں کو زبردست طریقے سے جگانے کی کوشش کی ہے اور ان کو مستقبل کا آئینہ دکھا کر ان کو اپنے زمداریوں سے اگاہ کیا ہے۔ امید کرتا ہو کہ اپکے موتی جیسے باتیں لوگوں پر ضرور کچھ نہ کچھ اثر کری گی۔

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

دنیا کا آٹھواں عجوبہ اور سمارٹ لاک ڈاون

ارطغرل جذبات فروش ھول سیل کمپنی

تعلیمی پسماندگی