ارطغرل جذبات فروش ھول سیل کمپنی
کل ایک دوست کے ٹائم لائن پر ترکش ڈرامے
ارطغرل کے بارے میں ایک پوسٹ دیکھا جس میں اس ڈرامے کے متعلق سوال کیا گیا تھا کہ کیا اس ڈرامے نے ہمارے زندگیوں پر کچھ اثرات ڈالے بھی ہیں یا نہیں؟ بدقسمتی سے اُسی ہی دن میں نے پاکستان کے بارے میں گوگل کا رپورٹ پڑھا تھا کہ دُنیا بھر میں تُرکش اداکارہ اُسرا بلجک (اُسراء بلقیس)کے سیکسی اور ہاٹ تصاویر رمضان کے اس مبارک مہینے میں سب سے زیادہ پاکستان میں دیکھے گئے ہیں۔ جب میں نے وہ رپورٹ اپنے دوست کیساتھ شئر کی تو وہ بُرا بھی مان گئے اور مجھے روائتی طعنہ زنی کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ یہ بات ایک طرف آجکل سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیااور الیکٹرانک میڈیا پر اس شاہکار کے بارے میں بہت کچھ سننے اور دیکھنھے کو مل رہا ہے ، حالانکہ خود نہ تو اس کا کوئی پارٹ دیکھا ہے اور نہ ہی مجھے ڈراموں کا کوئی شوق ہے۔پر بھی ٹرینڈ میں ہونے کیوجہ سے اس کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوئے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں شرح تعلیم کم ہونے اور مذہب پسندی اور رجعت پسندی زیادہ ہونے کیوجہ سے ہمارا معاشرہ پیشہ ور جذبات فروشوں کیلئے ایک پسندیدہ اور پُرکشش مارکیٹ رہا ہے۔ پروفیشنل پروپیگنڈے کے ذریعے ہمیشہ ہمارا جذباتی استحصال کیا گیا ہے۔ ہماری مذہب پسندی اور سادگی سے فائدہ اُٹھا کر ان جذبات فروش استحصالیوں نے کئے بین الاقوامی سازشوں کو پایا تکمیل تک پہنچایا ہے۔ اسی کی دہائی کا مشھور جہادِ افغانستان (جو کہ میری دانست فساد تھا)کے دوران ہالی ووڈ کے فلمی سینز پر نعتیہ نظموں کی ملمع کاری کرکےسادہ لوح نوجوانوں کو دکھادکھا کر اُن کا جذبہ جہاد اُبھارا گیااور اس جہاد کیلئے پاکستان کے پشتون علاقوں میں جہاد کے نام پر فساد کی نرسریاں لگائی گئی ۔ جہاد کے نام پر جو فصل اسی کی دہائی میں بوئی گئی اُس کو اآج تک ہماری قوم پوری حشر سامانیوں کیساتھ کاٹ رہی ہے۔اس جہاد نے ہمارے دونوں معاشی اور معاشرتی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے،کلاشنکوف کلچر اسی دہائی میں پروان چڑھی،فرقہ ورانہ فسادات، مذہبی منافرت،مذہبی عدم برداشت،ہیروئن اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ،بُردہ فروشی اور اسی طرح کے بے شمار قُباحتیں ہمارے معاشرے میں سرایت کر گئیں۔باوجود اس کے ہمارے بزرجمہروں،حکمرانوں اور پالیسی سازوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اس خونی کھیل سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ہم آج بھی دامے دُرمے و سخنے اس قبیح کاروبار میں پیسہ اور اپنے نوجوان جھونک رہے ہیں۔ جہادی تنظیموں کی سرپرستی آج بھی جاری ہےمگر اس کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا ہے۔ ہماری منافقت کا انتہا دیکھیں کہ ہم ایک طرف پرائیوٹ جہاد کو سپانسر کررہے ہیں اور دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا سے بھیک بھی مانگتے ہیں۔ ہم ایک طرف ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں سے بچنے کیلئے لوگوں کے ترلے اور منتیں کر رہے ہیں اور دوسری طرف ارطغرل جیسے سیریلز دکھا کر پرائیوٹ جہاد کے نرسریوں کا کاروبار کرنے والے مافیا کی سرپرستی بھی کرتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارا وزیراعظم کرونا جسیے عالمگیر وبا کے دوران بھی ارطغرل جیسے عیاشیوں کا متحمل ہو سکتا ہے اور اپنے ذمہ داریوں سے منہ موڑ کر قوم کو بھی داستانِ امیر حمزہ کا خوراک تجویز کر رہے ہیں۔
معذرت کے ساتھ عزت ماٰب وزیراعظم عمران خان سے التجا ہے کہ اگر واقعی جذبہ جہاد ہی کی آبیاری کرنی ہو تو فوجی یونٹوں اور بیرکوں میں بڑی بڑی سکرینوں پر اپنے پسندیدہ ارطغرل ڈرامے کودکھانے کا اہتمام کریں تاکہ ہمارے محافظوں کا مورال بُلند ہو اور جذبہ جہاد بھی ہرا بھرا ہو۔ اور ہماری فوج ہر موقع پر دشمن کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بھی ثابت ہو،اور خدا نخواستہ 1971والی صورتحال بھی کہیں دوبارہ نہ دیکھنا پڑے۔ جنابِ وزیرِاعظم پرائیویٹ جہاد کو سپانسر کرکے ہم مزید انتہا پسندی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اگر جذبہ جہاد کو پروان چڑھانے کا اتنا ہی شوق تھا تو پچھلے سال جب بھارت آپ کو جہاد کا موقع دے رہا تھا تب آپ کیوں ٹرمپ،مرکل،اردوان اور دسرے ممالک کے سربراہوں کو فون پر فون کھڑکا رہے تھے؟ کر لیتے نا جہاد کا شوق پورا،، یا اُس وقت کوئی آسمانی الہام جہاد سے روک رہا تھا؟ کیوں ابھے نندن کو ہفتہ کے اندر اندر رہا کرکے جذبہ خیر سگالی کا اظہار کررہے تھیں؟
میرااپنے وزیراعظم اور بالادست ہاتھوں سے گُذارش ہے کہ خدارا بس کریں پاکستانی قوم پر رحم کھا کر دہشت گردی کے کاروبار سے ہاتھ کھینچئے اور اپنے نوجوانوں کو جنگ اور دہشت گردی کا ایندھن بننے سے بچائیں۔اپنے نوجوانوں کو علم و معرفت کی پیاس کا پیالہ پلائیں اُن کو دہشت گردی،فرقہ پرستی ، خون ریزی اور نفرت کی گُٹھلیاں نہ پلائیں۔ جہاد کے شوق کو ٹوٹل 48بلین ڈالرکے بجٹ میں سے اکیلے12بلین ڈالر کھانے والی فوج تک محدود رکھیں،کیونکہ جدید دُنیا میں پراکسی اور روائتی جنگوں کی ہیئت بدل گئی ہے، پرائیویٹ جہاد اب دہشت گردی بن گئی ہے اور روائیتی جنگ اب خود کش حملہ آوروں سے جہازوں اور مشینری پر منتقل ہو گئی ہے۔ دہشت گردی کو فروموٹ کرکے جنابِ وزیراعظم نہ تو اسلام کی خدمت کر رہے ہیں اور نہ ہی اس ملک کی بلکہ یہ میری دانست خاکی کارٹیل اور بوٹ کی خدمت ہے اس خدمت کو جتنا جلدی ہوسکے ختم کرنا چاہئیے اور اپنے معاشرے میں علم و آگہی کے قندیلیں روشن کرنے کی خدمت شروع کریں تاکہ یہاں پر امن و آشتی کا بول بالا ہو، علم و تحقیق کے چشمے رواں دواں ہو اور اسی طرح ترقی کا دور دورہ ہو۔ جنابِ وزیر اعظم آپ کوقوم نے معاشرے میں موجود افراط و تفریط مٹانے کیلئے ووٹ دیا تھا چاہے جتنا بھی تھاآپ کو ڈنگ ٹپاو پالیسیوں کیلئے نہیں چُنا گیا تھا۔ہمارے معاشرے میں موجود معاشرتی برائیوں سے جہاد کا آغاز کریں،ملاوٹ، رشوت و سفارش،گران فروشی، ذخیرہ اندوزی،نقل،قتل وغارتگری اور بے انصافی سے جہاد کریں،عوام کو زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے جہاد کا جذبہ پروان چڑھائیں، تعلیم عام کرنے اور ، اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے جہاد آپ بھول گئے ہیں اُن جہادوں کا بیڑا اُٹھائیں جناب وزیراعظم خون ریزی اور کُشتوں کے پُشتے لگانے والے جہاد کے علاوہ اور بھی بہت سے جہاد ہیں جن کے آغاز کیلئے ہم آپ کی جانب ٹکٹکی باندھے کھڑے ہیں۔ بیشک آپ انتخابی نعروں کو چھوڑیں،ایک کروڑ نوکریوں اور بچاس لاکھ گھروں کے تعمیر کو مستقبل پر چھوڑیں جب ریاست اور ریاستی ادارے مظبوط ہو جائینگے تو یہ سبھی خواب پھر بھی شرمندء تعبیر ہو سکتے ہیں۔ فی الحال ہمارا آپ سے پرُزور مطالبہ ہے کہ اداروں میں بنیادی اور ضروری اصلاحات کرکے ہماری پالیسیوں کی سمت درست کرنےکے جہاد کا آغاز کریں ۔ جس طریقے سے آپ نیا پاکستان بنانے کی کوشش کررہے ہیں ایسا گُذشتہ حکمران آپ سے بہتر کر رہے تھیں۔ خدارا اب بھی وقت ہے سنبھل جائیے پاکستان کو مدینے کی ریاست بنانے کی خبط میں پسینے کی ریاست بنانے سے اجتناب کریں اب بھی وقت ہے، تین سال کرنے کیلئے بہت بڑی مدت ہے اپنی ترجیحات بدل لیں ورنہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتا لوگوں کے دلوں میں موجود محبت نفرت میں بدل سکتی ہے اور پر تخت سے تختہ بھی ہو جاتا ہے۔

ماشاءاللہ۔ زبردست۔ بلکل اب عملی کام کرنا چاہئے۔ ہم کب تک یوں دوسروں کے ٹکڑوں پر پلتے رہےگے
ReplyDelete