دنیا کا آٹھواں عجوبہ اور سمارٹ لاک ڈاون
میں
آج آپ سے وہ باتیں شیئر نہیں کروں گا کہ جیسے جہاں پر پیشاب کرنا منع ہو وہاں پر
سب سے زیادہ لوگ رفع حاجت تک کرتے ہیں یا جہاں پرنو پارکنگ کا بورڈ لگا ہووہاں
پرسب سے زیادہ گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں بلکہ میں آج میں آپ کا توجہ اُن باتوں کیطرف
دلاتا ہوں جن پرنہ تو کھبی ہم بحث کرتے ہیں اور نہ ہی کھبی دماغ کھپاتے ہیں۔ کل پرسوں ایک حکومتی وزیر نے دعویٰ کیا کہ
کرونا کے ایمرجنسی میں نیویارک کا گورنر ہمارے سمارٹ لاک ڈاون کے کانسپٹ سے بے
انتہا درجے انسپائر ہے اور وہ وہاں پریہ تجربہ کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔ اب پتہ نہیں
مذکورہ وزیرکیساتھ گورنر نیویارک نے خصوصی رابطہ کرکے سمارٹ لاک ڈاون کے اسرار و
رموز پوچھے ہیں یا کوئی دوسرا درخواست مگرہم کوتو گورنر نیویارک کے اس خواہش کا
باوجود جدید الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کےکوئی خبر نہیں ہوئی۔ گورنراینڈریو کیوموصاحب
کونسا سمارٹ لاک ڈاون؟ ہفتے بھر کے کاروبار کو چار دن تک محدود کرکے دن میں
کاروباری سرگرمی کو چند گھنٹے تک محدود کرکے ہم تو اپنے تضاد بھرے نفسیاتی کیفیت
کو تسکین پہنچا رہے ہیں آپ کو اس میں کونسی خوبی نظر آئی؟ اگر آپ کو سمجھ نہیں
آرہی ہے تو سادہ سی بات ہے کوئی راکٹ سائینس نہیں یہ سمجھنا کہ اگر آپ ہجوم سے
بچنا چاہتے ہیں تو خریداری کا ٹائم بڑھا لیں لوگ تھوڑے تھوڑے کرکے بھیڑ اور ہجوم
سے بچ جائینگے، بلکہ میرے خیال میں تو یہ دورانیہ بعض کاروباروں کیلئے رات گئے تک
بڑھا کر اور بھی آسانی پیدا کیجاسکتی ہے۔ جیسا کہ عید سر پرہے اور کپڑوں اور جوتوں
کے دکانوں پر رش بے انتہا بڑھ گیا ہے تو کپڑوں، جوتوں اور عید سے متعلق خریداری کے
دکانوں کو صرف رات تک محدود کرکے ہی بھیڑ سے بچا سکتا ہے اور تبھی ہم اسے سمارٹ
لاک ڈاون بھی کہہ سکتے ہیں۔ روزمرہ ضروریات زندگی کے اشیاء کے ہر قسم کے دکان کو
ہر صورت میں لاک ڈاون سے استثناء دیکر ہی ہجوم اور بھیڑ کا راستہ روکا جا سکتا ہے
ارے عقل کے اندھوں یہ کونسی لاجک ہے کہ ہفتے میں چار دن کرونا نہیں لگے گا اور تین
دن کرونا بے مہار ہوگا؟ ارے شیخ چلی کے اولاد صبح دس بجے سے لیکر شام چار بجے تک
کرونا کیا گھاس چرنے جاتا ہے؟ اگر آپ سمارٹ لاک ڈاون کرنا ہی چاہتے ہیں تو مختلف
قسم کے کاروباروں کیلئے الگ الگ اوقاتِ کار مقرر کرکے ہی بھیڑ اور ہجوم سے بچا جا
سکتا ہے۔ مگرکیا کریں جب ہم تضاد بھرا کام نہ کریں تویہ ملک کیسے چلے گا؟ کیونکہ
یہ ملک تو چلتا ہی تضادات کے ایندھن سے ہے۔ اب
آئئے برسوں سے جاری ایک اور تضاد کا جائزہ لیتے ہیں۔ بجلی کی بچت کے نام پر دفتری
اوقاتِ کار تبدیل کرنے کا تضاد، پہلے عام طور پر ہفتے میں چھ دن سات گھنٹے کے
اوقاتِ کار ہوا کرتے تھے اور گرمیوں میں عام دفاتراور ادارے صبح سات بجے کھلتے اور
شام کو تین بجے چھٹی ہوتی اور یوں ہفتے میں 42 گھنٹے اوقاتِ کار ہوا کرتا تھا جبکہ
سردیوں میں صبح آٹھ بجے سے لیکر شام 4 بجے تک۔ پھر کیا ہوا کہ بجلی کے بحران کو
ختم کرنے کیلئے ہمارے سیاستدانوں نے اشرافیہ کا سہارا لیا اور ملک کو دیمک کیطرح
کھانے والے سائنسدانوں (اشرافیہ) کے ذمہ یہ ڈیوٹی لگائی کہ وہ بجلی بجائیں، ان
پاکستانی افلاطونوں نے حل یہ تجویز کیا کہ دو دن کی چھٹی کرکے اوقاتِ کار کو بڑھا
کر صبح اٹھ بجے سے شام چار بجے کرکے بجلی
بجائی جائیگی۔ اب تضادات سے بھرے اس فیصلے پر دماغ میں بُھس بھرے سیاستدانوں نے نہ
تو سوچ کیا اور نہ ہی بچار اور بلا چوں و چرا ہمارے آئن سٹائنوں کا فارمولا نافذ
کیا بجلی بچانے کیلئے۔ حالانکہ اس سارے مغز ماری میں اوقاتِ کار میں صرف دو گھنٹوں
کا فرق آیا جو کہ ایک چھٹی میں بھی کیا جا سکتا تھا اور واقعی بجلی بھی بچائی جا
سکتی تھی۔ دو دن کی چھٹی کراکر بجلی کا
خرچ اور بھی بڑھایا گیا کیونکہ اوقاتِ کار کو گرمیوں میں صبح سات بجے سے آگے کرکے
آٹھ بجے کرنے اور چھٹی کو تین سے چار پر لیجانے سے تو دن کے گرم ترین اوقات کو
دفتری اوقاتِ کار میں شامل کرکے بجلی کا
خرچ اور بھی بڑھایا گیا۔ ایسا کرکے کوئی کیسے بجلی بچا سکتا ہے اگر کوئی مجھے یہ
ثابت کرکے دکھائیں تو میں پھانسی پر چڑھنے کو تیار ہوں۔ اس فیصلے کے بعد نہ تو
عوام کو بتایا گیا کہ اتنے بڑے سائینسی دریافت کے بعد کونسا تیر مارا گیا ہے اور
کتنے یونٹس بجلی کے بچائے گئے ہیں اور نہ ہی اس فیصلے پر نظر ثانی کی گئی بلکہ یہ
حکومت تو دو ہاتھ آگے ہوئی اورصبح کی حاضری آٹھ کے بجائے نو کرکے شام کو چھٹی چار
کے بجائے پانچ کرکے نوبل انعام کے حقدار
ٹھری (مراد سعید صاحب کو یہ کریڈیٹ بھی لینا چاہیے تھا مگر نہ جانے یہ کریڈٹ نہ
لیکر مراد صاحب شاید کوئی اور تیر مارنا چاہتے ہونگے) ۔ اگر واقعی بجلی ہی بچانی
تھی تو صبح چھ بجے حاضری کرکے دوپہر ایک بجہ چھٹی کراکے واقعی بجلی بچائی جا سکتی
تھی اور دفتری اوقاتِ کار پر بھی کوئی اثر نہ پڑتا مگر زک تو لارڈ صاحبان کو پڑتا
کیونکہ بڑے بڑے افسروں کی راتوں کے رونق اور ویک اینڈ پر ملک کے ہر حصے سے چھٹی
گزارنے کیلئے آبائی گھروں کو جانے کیلئے دو دن کی چھٹی کے اتنے بڑے تانے بانے بننے
کیلئے کوئی تو بہانہ چاہئے تھا نا، اور عوام جائے بھاڑ میں کیونکہ عوام تو صبح
سویرے اُٹھ کرکورٹ کچہری اور دفاتر کے کام جلدی نمٹاکر اپنے آپ کو دوسرے کاموں
کیلئے فارغ کرکے ہی سکون کا سانس لے سکتے ہیں مگر اب آفسران صاحبان (لارڈ صاحبان)
صبح دس بجے دفاتر پہنچتے ہیں،،پھر میٹنگزاور دستخطیاں پھرعوام کیلئے اگر فراغت ہو
تو شام کو آخری گھڑیوں میں وقت نکلتا ہے۔ عام عوام کو تصدیقیوں اور گواہان کیلئے
چائے پانی اور کرائے کے علاوہ روٹی کی بندوبست بھی کرنی ہوتی ہے، صبح سویرے دفاتر
آکر لارڈ صاحبان کا انتظار بھی کرنا پڑتا ہے اور سارا دن خوار ہونا بھی پڑتا ہے۔ اس
پر مستزاد عام کمی کمینوں کے علاوہ دفتری بابو بھی اس گھن چکر میں خوب پھستے ہیں۔
گرمیوں کی چھوٹی راتوں میں گھر میں لوڈشیڈنگ، مچھروں اور کٹھملوں سے ساری رات زور
آزمائی کرنے کے بعد پھر سارا دن دفتروں میں اونگتھے ہیں اور دھوبی کے ،،،،،، کیطرح
نہ گھر کے رہتے ہیں اور نہ گھاٹ کے بلکہ زیادہ تر ذہنی مریض ہو چکے ہیں، دفتروں
میں بات بات پر جھگڑنا، گاڑی میں بحث و تکرارکرنا، بازاروں میں معمولی معمولی
معاملات پر آپے سے باہرہونا اور یہ ساری پیچیدگی تضاد کے ایک نفسیاتی قومی عادت کی
مرھونِ منت ہے۔
ہمارے رویوں اور کاموں میں تضادات پر صفحے سیاہ کئے جا سکتے ہیں مگر طوالت کی ڈرسے
آج اتنا ہی لکھوں گا مزید کسی اور دن۔ تحریر انوارالحسن خان

Comments
Post a Comment