Posts

کرنل کی بیوی

Image
گذشتہ چند دنوں سے ہزارہ ایکسپریس وے پر پولیس ناکہ توڑنے والی عورت کا بہت بڑا چرچا رہا ہے جو اپنے آپ کو  کرنل کی بیوں بتاتی ہے، حالانکہ میرے لئے یہ کوئی بات ہی نہیں کہ وہ کون ہے میرے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ میرے ملک کا قانون توڑنے والی طاقت کی نشہ میں سر تا پا دُھت ایک مغرور اور قابل نفرت عورت ہے۔ مبینہ طور پر اسی کے کرنل خاوند کا بھی بالکل ایسا ہی ایک ویڈیو مشھور ہے حالانکہ مجھے اُس ویڈیو کی صحت کے بارے میں بھی مکمل معلومات نہیں ہیں اور میں اپنے معاشرے میں موجود ان رویوں کا خود شاہد ہوتے ہوے کھبی اسطرح کے فضولیات پر وقت بھی ضائع نہیں کرتا۔ قطعہ نظر اس کے یہ ویڈیو ہاتھوں ہاتھ لی گئی ہے اور آجکل تقریباً ہر سوشل میڈیا میں ٹرینڈ پر ہےجو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ واقعی سوچ تبدیل ہونا شروع ہوگئے ہیں، لوگ سوال اُٹھانے لگے ہیں اور ملک میں موجود امتیازی رویوں اور روایات سے تنگ آگئے ہیں۔ لوگ اب عدل و انصاف اور یکساں قوانین اور برابری کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ مگر بات وہاں پر آکر اٹک جاتی ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ہمارے زمینی آقا ہمیں کیونکر اپنے برابر حقوق دینے پر آمادہ ہ...

دنیا کا آٹھواں عجوبہ اور سمارٹ لاک ڈاون

Image
                                        دنیا کے سات تسلیم شدہ عجائبات کے علاوہ میری نظر میں دنیا کا سب سے بڑا عجوبہ ہمارا ملک پاکستان ہے۔ یہاں کے سب ریت و رواج ہی نرالے ہیں۔ یہاں پر روز روز جو عجائبات جنم لیتے ہیں وہ دنیا کی آنکھوں سے اوجھل رہتے  ہیں۔ یوں تو روزِ اول سے ہی ہمارے مادرِ وطن کا اونٹ کیطرح کوئی بھی کل سیدھی نہیں ہے مگرموجودہ حکومت کے آنے کے بعد لطیفے روزمرہ کی بنیاد پر رونما ہونے لگے ہیں۔ اگر ہم مختصر الفاظ میں کہیں کہ ہمارا ملک تضادات کا ملک ہے تو کچھ بہت زیادہ غلط نہیں ہوگا۔ روزمرہ زندگی میں عام لوگوں کی تضادات بھری زندگی ایک طرف مگر ہماری حکومتی مشینری جو زیادہ تر سول، ملٹری اور ملا انٹرپرائزز کا ایک ملغوبہ ہےکے تضادات بھرے کام ورلڈ گینز بک آف ریکارڈ والوں سے یا تو پوشیدہ ہیں اور یا وہ لوگ رویوں کےعجوبوں سے اپنی کتاب بھرنا نہیں چاہتے ورنہ صفحوں کے صفحے کالے ہو جاتے، کتابوں کے کتاب مدون ہوتے اور ہمارے تضادات ختم نہ ہوتے۔ آیئے ان تضادات میں سے چند پر آج نظر دوڑاتےہیں۔   میں آج آپ سے وہ باتیں شیئر نہیں کروں گا کہ جیسے جہاں پر پیشاب کرنا منع ہو وہاں پر سب سے زیادہ...

ارطغرل جذبات فروش ھول سیل کمپنی

Image
 کل ایک دوست کے ٹائم لائن پر ترکش ڈرامے  ارطغرل کے بارے میں ایک پوسٹ دیکھا جس میں اس ڈرامے کے متعلق سوال کیا گیا تھا کہ کیا اس ڈرامے نے ہمارے زندگیوں پر کچھ اثرات ڈالے بھی ہیں یا نہیں؟ بدقسمتی سے اُسی ہی دن میں نے پاکستان کے بارے میں گوگل کا رپورٹ پڑھا تھا کہ دُنیا بھر میں تُرکش اداکارہ اُسرا بلجک (اُسراء بلقیس)کے سیکسی اور ہاٹ تصاویر رمضان کے اس مبارک مہینے میں سب سے زیادہ پاکستان میں دیکھے گئے ہیں۔ جب میں نے وہ رپورٹ اپنے دوست کیساتھ شئر کی تو وہ بُرا بھی مان گئے اور مجھے روائتی طعنہ زنی کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ یہ بات ایک طرف آجکل سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیااور الیکٹرانک میڈیا پر اس شاہکار کے بارے میں بہت کچھ سننے اور دیکھنھے کو مل رہا ہے ، حالانکہ خود نہ تو اس کا کوئی پارٹ دیکھا ہے اور نہ ہی مجھے ڈراموں کا کوئی شوق ہے۔پر بھی ٹرینڈ میں ہونے کیوجہ سے اس کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوئے ہیں۔  بدقسمتی سے ہمارے ملک میں شرح تعلیم کم ہونے اور مذہب پسندی اور رجعت پسندی زیادہ ہونے کیوجہ سے ہمارا معاشرہ پیشہ ور جذبات فروشوں کیلئے ایک پسندیدہ اور پُرکشش مارکیٹ رہا ہے۔ پروفیشنل پروپیگنڈے کے ذ...

تعلیمی پسماندگی

جدید دنیا کی بنیادیں بیشک تعلیم پر ہی استوار ہے۔ قوموں کی درجہ بندی کیلئے اگر چہ بہت سارے پیمانے مستعمل ہیں لیکن جس قوم میں شرح خواندگی زیادہ ہو وہ قوم بام عروج پر پہنچنے کیلئے سب سے زیادہ موزوں سمجھی جاتی ہے۔ ہم اگر موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ تعلیمی پسماندگی کسی قوم کو کہیں کا نہیں چھوڑ دیتا۔ جہاں جہاں پر شرحِ تعلیم زیادہ ہے دنیا کے ان حصوں میں امن و امان سمیت سہولیات اور آسائشوں کی بھر مار ہے مگر دنیا کے جن خطوں میں شرحِ تعلیم کم ہے وہاں پر امن وامان کی صورتحال ابتر ٫ فاقہ کشی، دشمنیاں اور بنی نوع اِنسان زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہم پاکستانی بھی اگر اپنے موجودہ صورت حال پر غور کریں تو ہمارے موجودہ حالات کاسب سے بڑا ذمہ دار تعلیمی پسماندگی کو ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف اگر ہمیں مذہب کے نام پر جہالت کی گھٹلی پلائی جاتی ہے تو دوسری طرف ہمیں روایات اور اور توہمات کے دیواروں میں مقید کر دیا جاتا ہے، سوال پوچھنا یہاں گستاخی پر معمول کی جاتی ہے اور دلیل و توجیہ پر کفر کے فتوے لگتے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ ہمیں سوچی سمجھی سازش کی تحت علم و آگہی سے مح...